رنگین بیانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوش بیانی، شیریں کلامی۔ "رنگین بیانی، لفاظی یا خطابت اس کی تلافی نہیں کر سکتی۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ٢٦٦:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'رنگین' کے ساتھ عربی اسم 'بیان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب 'رنگین بیانی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٠ء کو "اردو گلستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش بیانی، شیریں کلامی۔ "رنگین بیانی، لفاظی یا خطابت اس کی تلافی نہیں کر سکتی۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ٢٦٦:١ )

جنس: مؤنث